چنتامنی:6؍مارچ(محمد اسلم؍ایس او نیوز) ا قوام عالم میں آج چہار جانب نفرت وعداوت ظلم وبربریت دہشت وہشت عام ہوتی جارہی عالم دنیا دہشت کا شکار ہورہی ہے یہ ملک وملت میں دہشت ونفرت پھیلانے والے کوئی جاہل نہیں بلکہ اپنے وقت کے عظیم پروفیشنل ماہرین ٹکنیکل تعلیم یافتہ لوگ ہیں لیکن انکے پاس علم دینی یا روحانی علم نہیں ہے اگر علم روحانی کے پیروکار ہوجائیں تو پوری دنیاء سے دہشت پسندی کا خاتمہ ہوجائیگا انسانیت کے خلاف قدم اٹھانے والے افراد علم روحانی سے دور ہیں یہ بات ڈاکٹر مولانا سید شاہ آل رسول خالد جیلانی الواصلی کیسر مڑوی نے کہی ۔ وہ گزشتہ روز یہاں تعلقہ کے مرٖغ ملہ گیسٹ ہاؤز میں منعقد ہ عرس حضرت مولانا رومؒ وصوفی مشائخ کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج ضرورت ہے علم روحانی کو فروغ دیا جائے جس سے سماج اور ملک میں امن وشانتی قائم ہوسکتی ہے ۔
مولانا موصوف نے کہاکہ عوام الناس اگر علم روحانی کے علمبرادر بن جائیں تو قوم کی تقدیر فلاح وبہبودی میں بدل جائے گی قوم مسلم پستی اور تنزلی کی شکار ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہیکہ دینی تعلیمات سے بیزاری انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے ملک وبیرون ممالک کی ہزاروں کوشش ناکام ہوتی جارہی ہے یہی کوشش اگر علم روحانی کے فروغ پر ہوجائے تو پوری دنیاء میں امن کوبحال کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امن وامان ہندو مسلم اتحاد صرف نعروں تقریروں کا نہیں بلکہ عملی اقدام کا محتاج ہے کئی سال قبل جب ہندوستان میں اولیاء اللہ کی آمد ہوئی تو اسلام کے ساتھ ساتھ امن وامان کا پیغام لیکر آئے تھے اولیاء اپنی تمام زندگی کو مٹانے کے لئے کوشاں رہے تھے انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کی بنسبت ہندوستان کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہاں کسی بھی ایک مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر برتری حاصل نہیں ہے کہ یہاں پر ہندو مسلم اتحاد پر جتنا زور اولیا اور صوفیاء کرام نے دیا ہے اتنا ہی سنتوں نے بھی دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ او لیا ء ا للہ و بزرگان دین سے عقیدت و محبت اللہ سے محبت و ایمان کی علامت ہے اللہ والوں سے بغض و دشمنی اللہ سے بغض و دشمنی کے برابر ہے سر زمین ہندوستان میں دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں اولیا ء ا للہ اور بزرگان دین نے اہم کر دار ادا کیا اور بلا تفریق مذہب ہر ایک کے ساتھ محبت و بھائی چارگی کا بر تا ؤ کیا ہے آج اگر ہندوستان میں مسلمان ہیں تو وہ انھیں اللہ والوں کی قدموں کی بر کت سے ہیں جنھوں نے اشاعت اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قر بان کر دیا اسلئے ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کو یاد کرتے رہا کریں۔
افتتاحی تقریر کرتے ہوئے بنگلور سٹی بازار مدینہ مسجد کے خطیب علامہ مولانا محمد ظہیر الدین قادری نے بھی کہا کہ جو لوگ رسول کی رسالت پر ایمان نہیں لائیں گے وہ اگر چہ پوری زندگی خدا کی توحیدکا اقرار کرتے رہیں مگر وہ کافر اور جہنمی ہی رہیں گے اس لئے کہ بغیر ایمان بالرسالت کے ایمان بالتوحید معتبر ہی نہیں حضور رحمت عالمؐکی نبوت ورسالت اورجو کچھ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں ان تمام پر ایمان لانا اور دل سے انہیں سچا ماننا ہر امتی پر فرض عین ہے رسول پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص ہر گزمسلمان نہیں ہوسکتا۔
مولانا ظہیر الدین نے اپنے خطاب میں اور کہا کہ اسلام نے نوجوانوں میں پر یشان خیالی کے خاتم کیلئے روحانی ذہنی اور جسمانی سر گر میو ں کی صورت میں مثبت طر ز فکر عطاکیا تاکہ ان سیرت و کردار کو انتشار سے بچا کر محبت وعبادت الہیٰ تقویٰ وصالحیت اور جواں مردی و جا نفشانی کی زندگی سے ہمکنا ر کیا جائے حضور اکرمؐ نے نوجوانوں کو پر یشان خیالی اور بے راہ روی سے بچانے کیلئے روحانی فکر و عمل کے سانچے میں ڈھالنے کی تلقین فرمائی اور اس کیلئے مؤ ثر ہد ایات و تعلیمات عطا فرمائیں۔
مقرر خصوصی مولانا صوفی سید مختار احمد شاہ نوری بابا میسور نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی دستور نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے مذاہب کے ماننے والوں کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے مذاہب کے مطابق عمل کرسکتے ہیں اسی طرح اپنے دین کے تقاضوں کے تحت اور اپنے دینی تقاضوں کو پورا کرنے کی بھی ہمیں اجازت ہے لیکن بعض افراد اس میں تبدیلی چاہتے ہیں ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہمیں موت قبول ہوسکتی ہم نے اسی جذبے کے تحت چودہ سو سال گزارے ہیں اور جب تک دنیا قائم ہے ہم اس پر قائم رہیں گے شریعت کو قائم رکھنا صرف قائدین ،علماء کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ؐکے زریعے جو احکام فرمائے ہیں ہم اُس کے پابند ہیں ہم اُس میں ترمیم نہیں کرسکتے ہمیں اللہ اور اس رسولؐکی طرف سے جو حکم دیا گیا ہے اس پر ہمیں جم جانے کی ضرورت ہے اور جو آواز اُٹھارہے ہیں اُس کا پوری ہمت اور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ہمیں اس بات کو ظاہر کرنا ہوگا کہ دین ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے دین کے معاملے میں ہم نہیں ہٹ سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو شریعت کے تحفظ کیلئے جان دینے کی ضرورت نہیں ہے صرف اپنے اعمال درست کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ جب تم مسلمان تھے اور مسلمان نظر آتے تھے تو تم کو تمہارا حق ملتا تھا تمہیں تمہاری عزت ملتی تھی لیکن تم نے اپنا طریقہ بدل دیا مذہب سے دور ہوگئے اپنی شناخت کو چھپا لیا آج تم ریلوے بس اور ہوائی جہازوں میں دیکھ لو ہر جگہ تم ایک فیصد نظر آنے لگوگے پچاس فیصد پانے میں کامیاب ہوجاؤگے پھر کوئی تمہاری شریعت کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھے گا۔
اس موقع پر کئی صوفیوں نے مولانا رومؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کے شان میں نعت منقبت وغیرہ پڑھیں اس موقع پر حضرت صوفی شاہ محمد برہان الدین وارثی حید رآباد صاد ق پاشاہ الواصلی سید شمس تبریر قادری شفیع الدین شاہ قادری ہدایت اللہ شاہ قادری عبدالجبار شاہ قادری مولانا محمد اسلم رضاء شیخ سردار حسین شبیر پاشاہ متین قادری سمیت کئی صوفی حضرات موجود رہے۔